کبھی کبھار زندگی ایک ہی لمحے میں مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ ایک عام سا دن، ایک معمولی سی تکلیف، اور پھر سب کچھ بدل جاتا ہے۔ رابن کیونڈش کی کہانی اسی حقیقت کی ایک زندہ مثال ہے۔ یہ صرف ایک بیماری کی داستان نہیں، بلکہ انسان کے اندر چھپی ہوئی طاقت، خاندان کے پیار اور ناامیدی کے باوجود آگے بڑھنے کے عزم کی کہانی ہے۔
رابن برطانیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد انہوں نے کینیا میں چائے کے کاروبار کا آغاز کیا۔ وہاں ان کی شادی ڈیانا سے ہوئی اور دونوں نے مل کر ایک نئی زندگی کی بنیاد رکھی۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، یہاں تک کہ 1958 کا وہ دن آیا جب رابن کی عمر صرف 28 سال تھی۔ اچانک انہیں شدید کمزوری محسوس ہوئی، اور چند ہی گھنٹوں میں صورتحال سنگین ہو گئی — پولیو نے حملہ کر دیا تھا۔
یہ عام پولیو نہیں تھا جو صرف ٹانگوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ اس بیماری کی سب سے خطرناک شکل تھی۔ وائرس نے اعصابی نظام پر حملہ کیا اور سانس لینے والے پٹھے بالکل کام کرنا چھوڑ گئے۔ گردن سے نیچے پورا جسم مفلوج ہو گیا۔ رابن خود سانس نہیں لے سکتے تھے، اس لیے ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر مصنوعی سانس کی مشین سے جوڑ دیا۔ ابتدائی پیش گوئی بہت سخت تھی — کہا گیا کہ وہ چند ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہ پائیں گے۔
لیکن رابن اور ان کی اہلیہ ڈیانا نے اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
ڈیانا نے ڈاکٹروں کی مخالفت کے باوجود یہ فیصلہ کیا کہ رابن کو ہسپتال کے بستر پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑا جائے گا۔ وہ انہیں گھر لے آئیں۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا — گھر میں ایک ایسے شخص کی دیکھ بھال کرنا جو مکمل طور پر مشین پر منحصر ہو، انتہائی مشکل کام تھا۔ ہر سانس مشین کے ذریعے لی جاتی تھی۔ بجلی جانے، مشین خراب ہونے یا کوئی چھوٹی سی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔ مگر ڈیانا نے ہمت نہیں ہاری۔
اس مشکل کا ایک عملی حل ان کے دوست، آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ٹیڈی ہال نے نکالا۔ 1962 میں انہوں نے ایک خاص ویل چیئر تیار کی جس میں سانس کی مشین نصب تھی۔ یہ ایجاد صرف ایک مشین نہیں تھی، بلکہ آزادی کا دروازہ تھی۔ اب رابن بستر تک محدود نہیں رہے — وہ باہر نکل سکتے تھے، سفر کر سکتے تھے اور زندگی کو قریب سے دیکھ سکتے تھے۔ اس ویل چیئر نے نہ صرف رابن کی زندگی بدل دی بلکہ مستقبل میں ہزاروں معذور افراد کے لیے نئی راہیں کھول دیں۔
رابن نے صرف اپنی زندگی بہتر بنانے پر اکتفا نہیں کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان جیسے بہت سے لوگ صرف اس لیے ہسپتالوں میں قید ہیں کہ انہیں سانس کی مشین درکار ہے۔ انہوں نے آواز اٹھائی، فنڈز جمع کیے، اور ایسی ہی مزید ویل چیئرز اور آلات کی فراہمی کے لیے جدوجہد کی۔ بعد میں انہوں نے شدید معذور افراد اور ان کے خاندانوں کے لیے چھٹیاں گزارنے کی خصوصی سہولتیں بھی فراہم کیں، تاکہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح کچھ خوشگوار لمحات گزار سکیں۔
اکثر لوگ پولیو کو صرف ٹانگوں کے فالج سے جوڑ کر دیکھتے ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔ اگر وائرس سانس کے پٹھوں کو کنٹرول کرنے والے اعصاب کو متاثر کر دے تو مریض خود سانس لینے کے قابل نہیں رہتا۔ رابن کیونڈش بالکل اسی شدید حالت میں تھے، اور عمر بھر مشینی سانس کے سہارے زندہ رہے۔ مگر انہوں نے کبھی اپنی معذوری کو اپنی پہچان نہیں بننے دیا۔ وہ 1994 میں 64 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے — ڈاکٹروں کی دی گئی چند مہینوں کی زندگی کو انہوں نے تین دہائیوں سے زیادہ میں بدل دیا۔
رابن کی کہانی صرف بقا کی نہیں، بلکہ خدمت کی بھی ہے۔ انہوں نے اپنی تکلیف کو دوسروں کے لیے آسانی کا ذریعہ بنایا، اور ثابت کیا کہ معذوری کا مطلب زندگی کا خاتمہ نہیں۔ صحیح طبی دیکھ بھال، جدید آلات، خاندان کا تعاون اور معاشرے کی قبولیت کے ساتھ شدید معذوری کے باوجود بامعنی اور باعزت زندگی ممکن ہے۔
رابن کی کہانی ہمیں پولیو کے خطرناک پہلو کی یاد دلاتی ہے، مگر آج ہمارے پاس ایک طاقتور ہتھیار موجود ہے — پولیو ویکسین۔ چند قطرے کسی بچے کو اس تکلیف دہ سفر سے ہمیشہ کے لیے بچا سکتے ہیں۔ جب کوئی پولیو ورکر دروازے پر دستک دیتا ہے تو وہ صرف دوا نہیں دے رہا ہوتا — وہ ایک بچے کے مستقبل، اس کے خاندان کے سکون اور معاشرے کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔
پولیو سے بچاؤ ممکن ہے۔ ہر بچے کو ویکسین ملنی چاہیے۔ اور جو لوگ معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، انہیں عزت، مواقع اور بہتر زندگی کا مکمل حق حاصل ہے۔
رابن کیونڈش کی زندگی کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے: جسم کی کمزوری انسان کے حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتی۔
یہ آرٹیکل عوامی آگاہی کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ طبی معلومات عمومی رہنمائی کے لیے ہیں، کسی بھی طبی فیصلے کے لیے متعلقہ ماہر ڈاکٹر یا محکمہ صحت کی سرکاری ہدایات سے رجوع کریں۔
پولیو ورکرز: وہ اعتماد جو صحت کے اعداد و شمار تک پہنچنے کا راستہ بنا سکتا ہے →