سی ایچ آئی ایپ پر کام کرتے ہوئے تقریباً ہر ساتھی کو کوئی نہ کوئی مسئلہ پیش آتا ہے۔ اس تحریر میں 21 سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں۔ یہ رہنمائی میدان کے تجربے پر مبنی ہے۔ اپنا سوال تلاش کریں اور نیچے جواب دیکھ لیں۔
گھر کی اینٹری صرف ایک ہی بنائیں۔ اسی ایک اینٹری کے اندر دونوں کو الگ الگ فیملی کے طور پر درج کریں۔ کرایہ دار فیملی کے لیے پراپرٹی اونرشپ اسٹیٹس میں "رینٹڈ" منتخب کریں۔ مالک والی فیملی کے لیے اس کی اصل صورتحال کے مطابق جواب دیں۔
ایسی فیملی کو ایم ایم پی (موبائل اینڈ مائیگرنٹ پاپولیشن) کے طور پر درج کریں۔ انہیں کسی غلط کیٹیگری میں زبردستی نہ ڈالیں۔ اگر سمجھ نہ آئے تو سپروائزر سے پوچھ لیں اور درست طریقے سے اینٹری کریں۔
لیونگ اسٹیٹس والی اسکرین پر آپ جتنی تعداد لکھتے ہیں، ایپ صرف اتنی ہی فیملیز ایڈ کرنے دیتی ہے۔ اگر تعداد غلط لکھی گئی ہو یا بعد میں نئی فیملی کا پتا چلے تو لیونگ اسٹیٹس اسکرین پر واپس جائیں، فیملیز کی کل تعداد ٹھیک کر کے سیو کریں، پھر واپس آ کر نئی فیملی ایڈ کریں۔
اپارٹمنٹ اور ہاسٹل میں بہت سے گھر ایک ہی عمارت میں ہوتے ہیں، اس لیے پوری عمارت کا پارسل آئی ڈی ایک ہی رہے گا۔ ہر فلیٹ یا یونٹ کی الگ اینٹری بنائیں مگر پارسل آئی ڈی وہی ایک استعمال کریں۔ اس طرح ہر گھر کی اینٹری الگ اور درست رہتی ہے۔
اکثر وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہی پارسل آئی ڈی پہلے کسی دوسرے گھر کے لیے استعمال ہو چکی ہے۔ پہلے درست پارسل آئی ڈی چیک کریں۔ پھر ریجیکٹڈ اینٹریز میں جا کر وہ ریکارڈ کھولیں اور صحیح پارسل آئی ڈی لکھ دیں۔ دہرائی ہوئی پارسل آئی ڈی کبھی استعمال نہ کریں۔
کچھ عرصہ پہلے جب لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سی ایچ آئی رجسٹریشن کر رہے تھے تو وقتی طور پر پارسل آئی ڈی لگائی گئی تھیں۔ وہ پرانی اینٹریز سسٹم میں موجود ہیں۔ اس لیے نئی اینٹری کرتے وقت احتیاط کریں اور سپروائزر سے تصدیق کر لیں۔
میپ دو کاموں کے لیے ہوتے ہیں: فیلڈ میں ویریفکیشن اور درست پارسل آئی ڈی تلاش کرنا۔ اپنے بلاک میں پیدل چلیں اور زمین پر موجود گھروں کا میپ سے موازنہ کریں۔ رجسٹریشن کرتے وقت درست پارسل آئی ڈی تلاش کر کے وہی درج کریں۔ کسی پارسل آئی ڈی کو دوسرے گھر کے لیے کبھی دوبارہ استعمال نہ کریں۔
اگر ایپ بتائے کہ سی این آئی سی پہلے سے استعمال ہو چکا ہے تو اسے دوبارہ استعمال نہ کریں۔ جو سی این آئی سی ایک بار درج ہو چکا ہے، وہ دوسری بار درج نہیں کیا جائے گا۔
بہت سے ساتھی سمجھتے ہیں کہ سیو کا بٹن دبانے سے ڈیٹا سرور پر چلا گیا۔ ایسا نہیں ہے۔ سیو کرنے سے ریکارڈ صرف ٹیبلٹ میں رہتا ہے۔ سرور تک پہنچانے کے لیے روزانہ کام کے بعد سنک ضرور کریں۔
ایسا تب ہوتا ہے جب کچھ ریکارڈز میں مسئلہ ہو، جیسے دہرائی ہوئی پارسل آئی ڈی۔ ان سنکڈ ریکارڈز اور ریجیکٹڈ اینٹریز دیکھیں، مسئلہ ٹھیک کریں، پھر دوبارہ سنک کریں۔
فرض کریں ایک گھر میں چار ممبر پہلے سے رجسٹر ہیں۔ آپ اس اینٹری کو کھولتی ہیں، اس میں کچھ ایڈٹ کرتی ہیں، دوبارہ سیو کرتی ہیں اور سنک کر دیتی ہیں۔ اب سسٹم ان چاروں ممبرز کو پھر سے نئے ممبر سمجھ لیتا ہے۔ جو چار پہلے رجسٹر ہو چکے تھے، وہ مزید چار نئے بن جاتے ہیں اور اس گھر کے ممبرز چار کی جگہ آٹھ ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح رجسٹریشن ڈپلیکیٹ ہو جاتی ہے اور آپ کا ڈیٹا اصل سے زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
نہیں، کام رکنے کی ضرورت نہیں۔ ڈیٹا آف لائن درج کریں۔ جب انٹرنیٹ آ جائے تو اسے سنک کر دیں۔
گھبرائیں نہیں۔ پہلے ایرر کا پیغام غور سے پڑھیں، جو معلومات درج کی تھیں انہیں دوبارہ چیک کریں اور متعلقہ خانہ ٹھیک کریں۔ اگر مسئلہ رہے تو سپروائزر سے رابطہ کریں۔
ایپ میں ہاؤس انسپیکشنز والا حصہ کھولیں۔ وہاں کل رجسٹریشن، نامکمل ڈیٹا والی فیملیز، نامکمل ڈیٹا والے افراد اور ریفیوزل (انکار) والے کیس نظر آتے ہیں۔ وہاں سے ان پر دوبارہ کام بھی کر سکتے ہیں۔
آپ نے جو پاپولیشن کور کی ہے، اس میں جب بھی کوئی برتھ یا ڈیتھ ہو تو اسے ٹائم پر انٹر کریں۔
پاس ورڈ درست لکھیں۔ انٹرنیٹ چیک کریں۔ ٹیبلٹ ری اسٹارٹ کریں۔ کیش صاف کریں۔ پھر بھی نہ ہو تو سپروائزر سے رابطہ کریں۔ اکاؤنٹ بند ہو تو خود سے کچھ نہ کریں، سپروائزر سے چالو کروائیں۔
سب سے پہلے ٹیبلٹ ری اسٹارٹ کریں۔ کیش صاف کریں۔ بیک گراؤنڈ کی ایپس بند کریں۔ ٹیبلٹ میں جگہ خالی رکھیں۔ مسئلہ پھر بھی رہے تو ایپ دوبارہ انسٹال کریں۔
کچھ گھنٹے انتظار کریں۔ ان سنکڈ اور ریجیکٹڈ ریکارڈ ٹھیک کر کے دوبارہ سنک کریں۔ اگر فرق زیادہ ہو تو سپروائزر کو بتائیں۔
ہاؤس انسپیکشنز والے حصے میں جا کر نامکمل ریکارڈ مکمل کریں۔ "ہاؤس نہ ملا" کا پیغام آئے تو سپروائزر سے رہنمائی لیں۔ خود سے ریکارڈ ڈیلیٹ نہ کریں۔
سی ایچ آئی ایپ سرچ میں ایگزیکٹ میچ مانگتی ہے۔ یعنی جو ہاؤس کوڈ آپ لکھیں گے وہ بالکل پورا اور ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا سسٹم میں موجود ہے۔ ایک ڈیجٹ بھی آگے پیچھے ہو تو ایپ کو گھر نہیں ملتا اور سرچ خالی آتی ہے۔
اس کا آسان حل یہ ہے:
اس طرح کوڈ کا باقی حصہ پہلے سے صحیح لگ جاتا ہے اور صرف آخری آٹھ ڈیجٹس آپ کے مطلوبہ گھر کے ہوتے ہیں۔ ایگزیکٹ میچ بن جاتا ہے اور سرچ ہو جاتی ہے۔ ہر بار پورا کوڈ ہاتھ سے لکھنے سے غلطی کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔
ٹیبلٹ کی لوکیشن آن رکھیں۔ کھلی جگہ پر کھڑے ہو کر کوشش کریں۔ انٹرنیٹ اچھا رکھیں۔ ٹیبلٹ ری اسٹارٹ کریں۔ پھر بھی مسئلہ ہو تو سپروائزر سے رابطہ کریں۔
یہ تحریر عملی تجربے پر مبنی ہے۔ کسی بھی شک کی صورت میں اپنے سپروائزر سے تصدیق ضرور کر لیں۔